حضرت ابراہیم اور حضرت لوط علیہما السلام دونوں مہاجر پیغمبر (migrant prophets) تھے۔ انہوں نے اپنے آبائی وطن کو چھوڑ کر کنعان اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں—سدوم اور عمورہ—کو اپنے مستقل قیام اور دعوتی مشن کے لیے اختیار کیا۔ اگرچہ وہ ایک غیر خطے میں وارد ہوئے تھے اور وہاں کے مقامی قبائل و حکمرانوں کی باہمی کشمکش کے نتیجے میں حضرت لوط کو وقتی طور پر قید و اسیری کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن ان پیغمبروں نے ان بستیوں کو محض پردیس نہیں سمجھا، بلکہ وہاں کے باشندوں کو اپنی قوم یعنی اپنی مدعو قوم (addressees) کے طور پر دل سے اپنایا۔ ان کے اندر کسی قسم کی بیگانگی، بدگمانی یا نسلی تفریق کا احساس موجود نہ تھا، بلکہ وہ پوری طرح ان کے حقیقی خیر خواہ بن کر رہے۔
ایک سچے داعی کا دل اپنی مدعو قوم کے لیے کس قدر رقت، شفقت اور ہمدردی سے لبریز ہوتا ہے، اس کا واضح ثبوت اس وقت سامنے آتا ہے جب قومِ لوط پر عذاب کا خدائی فیصلہ صادر ہوا۔ قرآن اور بائبل کے متون سے یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ جب فرشتے اس بستی کی تباہی کا پروانہ لے کر آئے تو حضرت ابراہیم ان سے التجا اور اصرار کے انداز میں جھگڑنے لگے (يُجَادِلُنَا فِي قَوْمِ لُوطٍ)۔ وہ نہایت بے تابی کے ساتھ فرشتوں سے استفسار کرتے رہے کہ اگر اس بستی میں پچاس، چالیس، تیس، یا گھٹتے گھٹتے محض دس صالح افراد بھی موجود ہوں، تو کیا تب بھی ان پر عذاب نازل کیا جائے گا؟ ان کا یہ رویہ اس قلبی سوز اور تڑپ کا مظہر تھا جسے قرآن نے ان الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ، یعنی ابراہیم بے حد درد مند، نرم دل اور بردبار انسان تھے۔
اس تاریخی واقعے سے دوسرا بنیادی سبق یہ ملتا ہے کہ کائنات کا نظام اور خدا کا فیصلہ معروضی عدل (objective justice) کے اٹل قوانین پر قائم ہے۔ خدا کی عدالت میں کسی کی جذباتی چاہت یا ذاتی قربت کی بنا پر اصول تبدیل نہیں کیے جاتے۔ حضرت ابراہیم جیسے خلیل اللہ کی گہری تمنا اور سفارش کے باوجود، جب قوم نے اپنی اخلاقی پستی کے باعث توبہ کی تمام راہیں مسدود کر لیں، تو خدائی إنذار (divine warning) عذاب کی صورت میں حقیقت بن کر رہا۔ خدا کے قانونِ انصاف کے آگے محض شخصیات کا تقدس کام نہیں آ سکتا؛ چنانچہ حضرت لوط اپنی گمراہ بیوی کو اور حضرت نوح اپنے نافرمان بیٹے کو بھی خدائی گرفت سے نہ بچا سکے۔
موجودہ دور کے مسلمانوں کی عمومی ذہنیت میں ان دونوں حوالوں سے ایک گہرا فکری انحراف پیدا ہو چکا ہے۔ ایک طرف وہ دنیا کی دیگر اقوام—جو اصلاً ان کی مدعو قوم (ummat-e-da'wat) ہیں—کے تئیں شدید نفرت، حقارت اور گروہی تعصب (groupism) کا شکار ہیں، جو کہ سراسر ایک غیر دعوتی اور مردود رویہ ہے۔ دوسری طرف، ان کے اندر یہ خام خیالی (wishful thinking) جڑ پکڑ چکی ہے کہ خدا کے حضور ان کے بزرگ اور اہل اللہ بلا استحقاق شفاعت (intercession) کے ذریعے ان کی نجات کا سبب بن جائیں گے۔ یہ دونوں رویے قرآنی مزاج کے قطعی منافی ہیں؛ نجات کا انحصار کسی نسبت پر نہیں بلکہ خالص ایمان اور عملِ صالح پر ہے۔
(a) The area to the south and east of the Dead Sea now appears to be deserted. But, from 2300 to 1900 B.C., it was a very flourishing area, inhabited by the people of Lot. In spite of his continuous preaching, they did not reform themselves. On the contrary, they were out to kill him. Then they were destroyed by a severe earthquake. One part of this area is buried in the Dead Sea, while the other part exists only in the shape of ruins. This event happened four thousand years ago. Lot’s wife could not rise above the traditions of her community. In spite of being the prophet’s wife, she remained loyal to her community’s religion. As a result, when God’s punishment was administered, she was killed along with the common unbelievers.